لرزاں ترساں

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - کانپتا ڈرتا ہوا، سہما ہوا، لرزتا ہوا، خوف سے تھرتھراتا ہوا۔ "مخیر اپنی جگہ پارے کی طرح لرزاں ترساں کھڑے رہے، مستقل دھڑکا ان کے دل سے لگا تھا۔"      ( ١٩٧٨ء، روشنی، ١٨ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'لرزیدن' سے صیغۂ حالیہ تمام 'لرزاں' کے بعد فارسی مصدر 'ترسیدن' سے صیغۂ حالیہ تمام 'ترساں' لگانے سے مرکب بنا۔ "طلسم ہوشربا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کانپتا ڈرتا ہوا، سہما ہوا، لرزتا ہوا، خوف سے تھرتھراتا ہوا۔ "مخیر اپنی جگہ پارے کی طرح لرزاں ترساں کھڑے رہے، مستقل دھڑکا ان کے دل سے لگا تھا۔"      ( ١٩٧٨ء، روشنی، ١٨ )